میں اِس دنیا میں اپنی جگہ نہیں پاتا
”میں جو کچھ بھی کروں، ایک اجنبی ہی رہتا ہوں۔ دن بہ دن مجھے یقین ہوتا جاتا ہے کہ کوئی مجھے پسند نہیں کرتا، کسی کو میری ضرورت نہیں۔ اُن لوگوں کے درمیان میں خود کو بدحال محسوس کرتا ہوں جنہوں نے اپنے کیریئر میں آسمان کو چھو لیا، جن کے مسکراتے خاندان ہیں اور جن کی عزت کرنے والے ساتھی ہیں۔ اِس دنیا میں، جس میں میری کوئی جگہ نہیں، میں اپنے اردگرد اِن خوش چہروں کو اب مزید برداشت نہیں کر سکتا...“ – کیا یہ احساس آپ کو جانا پہچانا لگتا ہے؟
آپ اکیلے نہیں ہیں۔ ہم لاکھوں ہیں، بالکل آپ جیسے۔ ہم میں سے بہت سے اِس دنیا کے نہیں ہیں۔
( John 15:18-19 )
یہ دنیا ہمیں کیا پیش کرتی ہے؟ اہم اور خاص ہونے کا احساس، پیسہ کمانے، گاڑی اور بڑا گھر خریدنے کی صلاحیت؟ دوستوں کی تعریف، جو اِس بات کی تصدیق کرے کہ وہ آپ کو قبول کرتے ہیں اور اُن کے درمیان آپ کا خاص مقام ہے؟ یا دوسروں سے بہتر ہونے کا احساس؟ شاید اِس بات کا لطف کہ دوسرے لوگ آپ کی خدمت کریں؟ یا بس یہ سب گیجٹس جنہیں آپ خرید کر اُن سے کھیل سکتے ہیں؟ یا دنیا کی پیشکش کسی بڑی کمپنی میں ملازمت ہے، جہاں آپ دوسروں کو اپنا کیریئر بنانے میں مدد دے سکیں، اپنے ماتحتوں کو ترقی دلا کر یا اُن کے تکنیکی مسائل میں اُن کی مدد کر کے اپنی مہربانی دکھا سکیں؟ فرسٹ کلاس میں ہوائی سفر اور کاروباری کانفرنسوں میں آنا جانا؟ مہنگے ریستورانوں میں اپنی تصویریں سوشل میڈیا پر شائع کرنا؟
کمال ہے، ہے نا؟ کون یہ نہیں چاہے گا؟ ہاں، واقعی، آئیں ایمانداری سے کام لیں اور انکار نہ کریں – یہ دلکش لگتا ہے! لیکن جلد یا بدیر ہم سمجھ جائیں گے کہ اِس دنیا کی کوئی بھی پیشکش ہمارے اندر کے خالی پن اور تنہائی کو نہیں بھر سکتی۔ تب ہم خود کو دھوکا کھایا ہوا محسوس کریں گے کہ برسوں دنیا کے پیچھے چلتے رہے، اُس جھوٹے خزانے کی ہوس میں بھاگتے رہے، اور اب جا کر احساس ہوا کہ دوستوں کی وہ تعریف جو اِتنے عرصے ہمیں اِتنی قیمتی لگتی رہی، نقاب پوش حسد اور نفرت کے سوا کچھ نہیں۔
جب عیسیٰ زمین پر اُترا اور لوگوں کو آزادی پیش کی تو اُن میں سے بہت سے اُس پر ایمان لائے، مگر کسی نے کھل کر اِس کا اقرار کرنے کی جرأت نہ کی،
( John 12:43 )
یہ ہیں ہم – انسانی تعریف اور قبولیت کے بندھن میں جکڑے ہوئے۔ آزاد پرندے، جو سونے کے پنجرے میں قید ہیں۔ ایک مچھلی، جو چارے کی طرف کھنچ گئی۔ دوسروں کی رائے کے خوف میں بندھے ہوئے...
( Proverbs 29:25 )
جی ہاں، ہمیں اِس دنیا میں جگہ بنانے کی کوشش کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں اپنی جانوں کو تھکا کر اور اپنے دلوں کو نچوڑ کر اِس دنیا کی قدروں کی خواہش کے پیچھے بھاگنے کی ضرورت نہیں۔ جیسے پلاسٹک کے زیور کبھی اصلی ہیرے کا مقابلہ نہیں کر سکتے، ویسے ہی اِس دنیا کی پیشکشیں ہمارے دلوں کے خالی پن کو کبھی نہیں بھر سکتیں۔ وہ اُس پیاس کو کبھی نہیں بجھا سکتیں جو ہم محسوس کرتے ہیں۔
( 1 John 2:15 )
سچی محبت، سچے علم اور زندگی کی طرف لے جانے والی سچی راہ کا ایک سرچشمہ ہے – پانی کا وہ چشمہ جس سے پینے کے بعد ہم کبھی پیاسے نہیں ہوتے۔
( John 4:14 )
ہو سکتا ہے آپ عیسیٰ مسیح کو جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں (اگرچہ غالباً آپ نے یہ نام سنا ہو گا)، کہ وہ کون ہے اور کہاں سے ہے۔ پھر بھی ایک بات ہم فوراً دیکھ سکتے ہیں – وہ اِس دنیا کا نہیں ہے۔
( John 17:14 )
اور جو کچھ یہ دنیا پیش کرتی ہے، وہ اُسے قبول نہیں کرتا۔
( Matthew 4:8-10 )
جب ہم خود کو بےکار، ترک کیا ہوا، خالی اور اِس دنیا سے بیگانہ محسوس کرتے ہیں تو ہم وہ پانی پی سکتے ہیں جو عیسیٰ ہمیں پیش کرتا ہے۔ یہ پانی ہمیں وہ علم دے گا جس کی ہمیں ضرورت ہے، تاکہ ہم پھر کبھی پیاسے نہ ہوں۔ وہی وہ درست راہ بھی ہے جو اُس حقیقی خزانے تک لے جاتی ہے جسے انسان ساری زندگی ڈھونڈتے رہے ہیں۔
( John 14:6 )
ہم سب کے لیے فطری ہے کہ ہمیں خاص ہونے اور جیسے ہیں ویسے ہی پیار کیے جانے کے احساس کی ضرورت ہو۔ سب جانتے ہیں کہ ہم اللہ کی صورت پر پیدا کیے گئے ہیں۔ مگر ہم آسانی سے بھول جاتے ہیں کہ ہم اللہ کی نظر میں کتنے خاص ہیں۔
( Isaiah 43:4 )
ہو سکتا ہے ہمارے اندر اب بھی اپنی زندگی میں کچھ مفید کرنے اور بےکاری کے اُس احساس سے چھٹکارا پانے کی تڑپ ہو۔ اِس کے لیے ہمیں سمجھنا ہو گا کہ ہمارے لیے سب سے اہم بات ڈھونڈ لیا جانا ہے… ہمارا آسمانی باپ باقی سب کو چھوڑ کر صرف آپ کو ڈھونڈنے نکلے گا، اُس کھوئی ہوئی بھیڑ کو…
( Matthew 18:13 )
آئیں اپنے اندر گہرائی سے جھانکیں اور دیکھیں کہ بےکاری کا یہ پریشان کن احساس کہاں سے آ رہا ہے اور ہمیں کس طرف لے جا رہا ہے۔ اگر یہ احساس ہمیں انسانی قبولیت یا تعریف کی تلاش پر اُکساتا ہے تو اُسے خود پر حاوی ہونے دینے سے پہلے دو بار سوچیں۔ لیکن اگر جو آپ محسوس کر رہے ہیں وہ اللہ سے محبت یا اُن دوسروں سے محبت سے پیدا ہوا ہے جن کی آپ ضرورت کے وقت مدد کر سکتے ہیں، تو بےجھجک آگے بڑھیں! کیونکہ اللہ آپ کے ساتھ ہے، اور اُس کے پاس آپ کے لیے ایک منصوبہ ہے۔
( Jeremiah 29:11 )
اگر آپ کو ابھی تک یقین نہیں کہ اللہ کا آپ کے لیے کیا منصوبہ ہے، تو بس دعا کریں… پھر اپنے اردگرد نظر ڈالیں۔ شاید آپ پہلے ہی درست راہ پر ہیں؟
( John 14:27 )