مرکزی مواد پر جائیں

”اپنے دشمنوں سے محبت رکھو“ کا کیا مطلب ہے؟

War and child crying

ہم اپنے پڑوسی، اپنے خاندان اور دوستوں سے محبت کر سکتے ہیں۔ لیکن اپنے دشمن سے محبت کرنے کا کیا مطلب ہے؟ کیا واقعی ہمیں ایسا کرنا ضروری ہے؟

( Matthew 5:44 )

نظریاتی طور پر بھی یہ کچھ آسان نہیں لگتا، اور عملی طور پر تو تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ اور کیا یہ واقعی ضروری ہے؟…

آئیں دیکھیں کہ عیسیٰ اِس کی کیسے وضاحت کرتا ہے۔

( Matthew 5:44-48 )

واقعی، اگر ہم اپنے اردگرد نظر ڈالیں تو دیکھتے ہیں کہ ہر ایک کو دھوپ اور بارش ملتی ہے، اور سانس لینے کے لیے تازہ ہوا بھی۔ ہمیں اور ہمارے دشمنوں کو دلکش مناظر اور شاندار جانوروں سے بھری اِس حیرت انگیز دنیا میں رکھا گیا ہے…

اگر ہم مزید گہرائی میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری طرح ہمارے دشمنوں کے بھی ماں باپ تھے، چاہے وہ اُنہیں جانتے ہوں یا نہیں۔ اور غالباً اُن کے والدین نے بھی اُن سے اُتنی ہی محبت کی جتنی ہمارے والدین نے ہم سے کی۔

یہاں آرتھر کونن ڈائل کی شرلاک ہومز کی ایک کتاب سے ایک اقتباس ہے، جس میں ایک بہن اپنے قتل ہونے والے بھائی کا ماتم کرتی ہے، جو ملک کے سب سے خطرناک مجرموں میں سے ایک تھا...

”ساری دنیا کے لیے وہ تشدد کا آدمی تھا، آدھا حیوان اور آدھا شیطان؛ لیکن اُس کے لیے وہ ہمیشہ اُس کے اپنے لڑکپن کا وہی چھوٹا سا ضدی لڑکا رہا، وہ بچہ جو اُس کا ہاتھ تھامے رہتا تھا۔“

کیا ہمارا دشمن کوئی ایسا شخص ہو سکتا ہے جس سے ہم درحقیقت محبت کرتے ہیں؟

تصور کریں کہ ہمارے آسمانی باپ نے اُس شخص میں، جسے ہم اب اپنا دشمن کہتے ہیں، کیسے نئی زندگی پھونکی، جب وہ اپنی ماں کے رحم میں تھا تو اُس کی نگہداشت کی، پھر اُسے پیدا ہونے دیا، اور اِن تمام برسوں میں اُسے پہننے کو کپڑے، کھانے کو خوراک اور پینے کو پانی مہیا کیا… اور اب وہ اپنے کھوئے ہوئے بچے کو واپس پانے کا منتظر ہے، کہ وہ پھر سے مسکرائے اور اپنے آسمانی باپ کو پھر سے پکارے: ”ابّا!...“۔ اللہ اُس سے اُتنی ہی محبت کرتا ہے جتنی ہم سے کرتا ہے۔

آئیں یاد کریں کہ داؤد نے اپنے دشمن ساؤل کی جان کیسے بخش دی، جو مسلسل اُس کا پیچھا کر رہا تھا اور اُسے قتل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

( 1 Samuel 24:3-6 )

اِس بارے میں داؤد نے ساؤل سے یہ الفاظ کہے:

( 1 Samuel 24:12-13 )

اپنے دشمنوں سے محبت کرنے کی ایک اور مثال خود عیسیٰ ہے۔ آئیں دیکھیں کہ عیسیٰ نے اُن لوگوں کے بارے میں کیا کہا جو اُس سے بدسلوکی کر رہے تھے اور اُسے مصلوب کر رہے تھے۔

( Luke 23:34 )

اور یہ ستفنس کے الفاظ ہیں جب وہ سنگسار کیے جانے کے بعد مر رہا تھا۔

( Acts 7:54-60 )

ایسی کہانی پڑھتے ہوئے ہم خود کو یہودی راہنماؤں کے ساتھ نہیں جوڑتے۔ لیکن اگر درحقیقت ہم ہی اللہ کے کسی بےقصور پیغام رساں کو قتل کر رہے ہوں جو ہمیں بےنقاب کر رہا ہے اور ہم پر الزام لگا رہا ہے؟… ہم بےگناہ نہیں ہیں، اور ہمارے خلاف اُٹھنے والی آواز بلاوجہ نہیں اُٹھی۔

جب آپ نے پڑھا کہ یہودی راہنما ستفنس کو سنگسار کر رہے تھے تو آپ نے اُن کے بارے میں کیا محسوس کیا؟ غصہ، طیش؟… کیوں نہ اُن کے لیے رحم محسوس کریں، کیونکہ وہ راست باز بننے اور شریعت پر قائم رہنے کی کوشش کر رہے تھے، اور جن باتوں میں وہ درست نہ تھے اُن میں بےنقاب ہونے سے نفرت کرتے تھے۔ بہت سے پہلوؤں سے ہم اُن جیسے ہیں، اور وہ ہم جیسے۔ آئیں اُن کی غلطیوں کے باوجود اُن سے محبت کریں۔ اور اپنے دشمنوں سے محبت کرنے کی کوشش کریں، بالکل ویسے ہی جیسے اللہ اُن سے محبت کرتا ہے۔

( 1 Corinthians 13:4-7 )