مرکزی مواد پر جائیں

راستباز کیوں دُکھ اُٹھاتے ہیں اور بدکار کیوں پھلتے پھولتے ہیں؟ انصاف کہاں ہے؟

Court hammer

اِس دنیا میں ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ لوگوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوتا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ راستباز دُکھ اُٹھاتے ہیں اور بدکار پھلتے پھولتے ہیں۔ لیکن ایسا کیوں ہے؟ کلامِ مُقدّس کے مطابق اللہ اُن لوگوں کو انصاف دیتا ہے جن کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے۔

( Psalms 103:6 )

لیکن اگر اللہ انصاف دیتا ہے تو ہم اپنے اِردگرد اِتنی ناانصافی کیوں دیکھتے ہیں؟

آئیں ماضی پر نظر ڈالیں۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ انصاف کرنا، ایک دوسرے کی مدد کرنا اور آپس میں محبت پھیلانا تھا۔ اِس کے بجائے ہم نے یہاں زمین پر اللہ کی آنکھوں کے سامنے ظالمانہ کام کیے۔

( Psalms 106:37-40 )

اور آج کے دور میں بھی ہم ایمانداری سے اپنے آپ کو دیکھنے سے ڈرتے ہیں۔ صرف اپنے کاموں کو ہی نہیں، بلکہ اپنے خیالات اور خواہشات کو بھی غیر جانبداری سے پرکھنے سے۔ کسی کی اپنے بارے میں دیانتدارانہ رائے قبول کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اِس کے بجائے ہم میٹھے جھوٹ کو ترجیح دیتے ہیں۔

( Amos 5:10 )

صدیوں تک ہم انسانوں نے اپنے جیسے دوسرے انسانوں کا انصاف سے فیصلہ نہیں کیا۔ اور ہمارا اللہ اِسے نظرانداز نہیں کر سکتا تھا۔ اگرچہ یروشلم اُن لوگوں کا شہر تھا جن سے اللہ گہری محبت رکھتا ہے، پھر بھی اُسے سب کی طرح انصاف کا سامنا کرنا پڑا۔ ہم بُرے کام کرتے رہیں اور یہ بھروسا رکھیں کہ اللہ ہمیں ہمیشہ معاف کرتا رہے گا، ایسا نہیں ہو سکتا۔

( Jeremiah 5:1 )
( Lamentations 4:12-13 )

دوسروں کے ساتھ اپنی ناانصافی، سچائی سے اپنی نفرت، اپنے غرور اور گناہ کی وجہ سے ہم نے خود کو اللہ سے جدا کر لیا، اور خود کو انصاف سے جدا کر لیا۔ ہم اپنی مرضی سے شفاف پانی والی جھیل سے دُور، اور دُور ہوتے جاتے ہیں، پیاسے ہو جاتے ہیں اور پکارتے ہیں: ”پانی کہاں ہے؟ مجھے دکھائی نہیں دیتا!“ اللہ کہاں ہے، کیا وہ مدد نہیں کر سکتا؟

( Isaiah 59:1-11 )

ہاں، ہم نے گناہ کیا۔ اور ہاں، ہم اب بھی گناہ کرتے ہیں۔ ہم نے غلطیاں کی ہیں۔ پھر بھی ہم اپنے دل اللہ کے لیے کھول سکتے، توبہ کر سکتے اور معافی مانگ سکتے ہیں۔ اور جب ہم اپنے دل اللہ کے لیے کھولیں تو آئیں، اب سے اُنہیں گناہ کے لیے بند کر دیں۔

( Ezekiel 33:12-17 )

ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ اللہ ہماری سنے گا۔ ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ اپنے گناہوں سے منہ موڑنے، معافی پانے اور اللہ کا فضل حاصل کرنے میں کبھی دیر نہیں ہوتی۔

( Psalms 103:13 )
( Revelation 3:19 )

اور بلاشبہ انصاف غالب آئے گا، اور ہر ایک کو وہی ملے گا جس کا وہ حقدار ہے۔

( Jeremiah 17:10 )

لیکن سچے راستباز کیوں دُکھ اُٹھاتے ہیں؟

اگر ہم اِس حقیقت کو بھول بھی جائیں کہ زمین پر ایک بھی بےگناہ انسان نہیں، تب بھی ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم ہمیشہ اللہ کی راہوں کو نہیں سمجھ سکتے۔ اگرچہ ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ نیکی کیا ہے اور بدی کیا، لیکن ہم اُس علم کو صحیح طرح استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ ہم پوری تصویر نہیں دیکھتے۔

( Isaiah 55:9 )

اور ہم ہمیشہ یہ نہیں سمجھ پائیں گے کہ جن نیک لوگوں کو ہم جانتے ہیں، اُن کی زندگی میں اِتنے دُکھ کیوں آئے۔ لیکن آئیں کلامِ مُقدّس میں دُکھ اُٹھانے والوں کی کچھ مثالوں پر نظر ڈالیں۔ آپ کو یوسف کی کہانی یاد ہو گی جو غلامی سے اُٹھ کر مصر کا دوسرا سب سے طاقتور شخص بن گیا۔

( Psalms 105:17-19 )

یوسف کو وہ برکت پانے سے پہلے جس کا وہ منتظر تھا، بہت سی آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔ اور جو آزمائشیں اُس پر آئیں وہ ضروری نہیں کہ اُس کے گناہوں کی سزا ہوں، بلکہ وہ سیکھنے کا ایک ضروری عمل تھیں جس نے اُسے اُس اعلیٰ مقام کے لائق بنایا جو اُسے ملنے والا تھا۔

خود عیسیٰ نے بھی اپنی زمینی زندگی میں دُکھ اُٹھایا، حالانکہ اُس نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا۔

( Hebrews 5:8 )

ہم میں سے کچھ نے اپنے والدین یا عزیزوں کو کھو دیا ہے۔ وہ فوت ہو گئے، حالانکہ ہم دن رات اللہ سے دعا کرتے رہے کہ اُن کی جان بخش دے۔ اللہ ہماری کیوں نہیں سنتا؟

جب ہمارے عزیز فوت ہو جاتے ہیں تو ہمارا اُن سے رابطہ ٹوٹ جاتا ہے، ہم اُنہیں مزید دیکھ نہیں سکتے، اُن سے بات نہیں کر سکتے، اُن کی مسکراہٹ نہیں دیکھ سکتے، اُن سے حوصلہ افزا نصیحت نہیں پا سکتے۔ ہم اُن کی موت کو ایسا انجام سمجھتے ہیں جہاں ہم کچھ نہیں کر سکتے... لیکن اللہ کر سکتا ہے۔ اللہ کے نزدیک ایک بھی انسان مُردہ نہیں۔ اللہ ہماری اور ہماری دعاؤں کی سنتا ہے۔ وہ ہماری بھلائی چاہتا ہے، اور اُن کی بھی بھلائی چاہتا ہے جنہیں ہم نے کھو دیا۔

( Isaiah 57:1-2 )

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اللہ کے وفادار ہیں، پھر بھی زندگی آپ پر بہت سخت ہے؟ ایک محبت کرنے والے باپ کی طرح ہمارا اللہ ہمیں سکھاتا اور تربیت دیتا ہے، ہمیں پاک صاف کرتا اور اللہ کی طرف سے ملنے والی نعمت پانے کے لیے تیار کرتا ہے۔

( Hebrews 12:7-11 )
( 1 Peter 1:6-7 )

ہم دیکھتے ہیں کہ بدکار پُرسکون زندگی گزارتے ہیں، انصاف سے بچ نکلتے ہیں اور بہت سی لذتوں سے لطف اُٹھاتے ہیں۔ اُن میں سے کچھ نے ہماری زندگیاں برباد کیں اور اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے دوسروں کو استعمال کر کے خوش ہوتے ہیں۔ ہمیں اُن پر کوئی سزا نافذ ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ پھر بھی ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ وہ اللہ کی عدالت سے بچ نکلیں گے۔

( Psalms 73:4-11 )
( Psalms 73:18-20 )
( Psalms 92:6-7 )
( Proverbs 24:19-20 )

یاد رکھیں کہ اللہ ہمیشہ منصف اور عادل ہے۔ ہم ہمیشہ اُس کی راہوں کو نہیں سمجھتے، اور کبھی کبھی دوسروں کا فیصلہ کرنے میں جلدی کرتے ہیں۔ اِس کے بجائے آئیں، انصاف اللہ پر چھوڑ دیں، اور اپنی پوری کوشش کریں کہ اپنے اِردگرد ہر ایک کے ساتھ احترام اور محبتسے پیش آئیں۔

( Psalms 145:18-19 )
( Deuteronomy 31:8 )